27 اگست 2012 - 19:30

امريکا کے نو فوجيوں کو افغانستان ميں قرآن کريم کے نسخے جلانے اور افغان شہريوں کي لاشوں کي بے حرمتي کرنے کے جرم ميں کسي بھي طرح کي سزا سے معاف کرتے ہوئے صرف دفتري سطح کي تنبيہ پر اکتفا کيا گيا ہے -

ابنا: بي بي سي کے مطابق يہ دونوں واقعات اس سال انٹرنيٹ پر جاري کي گئي ويڈيو کلپ کے بعد منظر عام پر آئے تھے جس کے نتيجے ميں امريکا اور افغانستان کے تعلقات کافي حدتک کشيدہ ہوگئے تھے –
جن نو امريکي فوجيوں کو اتنے سنگين جرم پر صرف  دفتري سطح کي تنبيہ کي گئي ہے ان کے نام اور شناخت کا بھي اعلان نہيں کيا گيا ہے-
مبصرين کا کہنا ہے ان مجرم امريکي فوجيوں کو ہر طرح کي سزا سے معاف کرديے جانے پر افغان عوام ميں دوبارہ اشتعال پيدا ہوسکتا ہے - ان جرائم پيشہ امريکي فوجيوں کو جو دفتري تنبيہ کي گئي ہے اس کےمطابق ان کا رتبہ کم کرديا گيا ہے ،ان سے کام زيادہ ليا جائے گا اور ان کي تنخواہيں کم کردي جائيں گي –
واضح رہے کہ گذشتہ دس سال ميں  افغانستان اور عراق ميں امريکي فوج کو بے شمار رسوائيوں کا سامنا کرنا پڑا ہے-
دوہزار چار ميں عراق کي ابوغريب جيل ميں امريکي فوجيوں کے ذريعے عراقي قيديوں کو ايذرساني کي جو تصويريں سامنے آئي تھيں اس پر عالمي رائے عامہ نے شديد برہمي کا اظہار کيا تھا –

.......

/169